مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں

بینش جاوید

 افغان حکومت کو پاکستان سے دو گلے ہیں افغان حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہو اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے خلاف مناسب اقدامات بھی کرے۔ کیا پاکستان واقعی مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔ وزارت خارجہ کے کچھ افسران سے میں نے جب اس بارے میں بات کی تو ان کا کچھ یوں کہنا تھا۔پاکستان دو وجوہات کی بنا پرتمستحکم اور پر امن افغانستان کی خواہش رکھتا ہے۔نمبر ایک وجہ سیکیورٹی اور دوسری معاشی ترقی ہے۔پاکستان کی عسکری اور سویلین قیادت میں یہ سوچ غالب آرہی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے شدت پسندوں کو بھی تقویت ملے گی۔ افغانستان میں جنگ سے لاکھوں مہاجرین پاکستان کا رخ کریں گے اور افغانستان میں دہشتگردی کے اثرات یقنی طور پر پاکستان میں بھی دیکھے جائیں گے۔ اس لیے غیر مستحکم افغانستان پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے شدید خطرہ ہے۔
معاشی لحاظ سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی پاکستان کو مستحکم افغانستان چاہیے۔تاجکستان سے گیس حاصل کرنے کے لیے ٹاپی گیس پائپ لائن منصوبہ اور بجلی کی برآمد کے لیے کاسا 1000 منصوبے پاکستان میں توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ منصوبے صرف پر امن افغانستان کے ذریعے ہی پایا تکمیل تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان وسطی ایشائی ممالک کے ساتھ افغانستان کے ذریعے ہی تجارت کر سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہمیشہ سے ہی رہا ہے ۔ لیکن سرحد پار سے پاکستان کی سرزمین پر شدت پسندوں کے حملوں نے اسے مزید بڑھا دیا ہے۔ہماری قیا دت سمجھتی ہے کہ افغانستان میں مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی شدت پسندوں کو پناہ دی گئی ہے۔ یہ شدت پسند گروہ کی صورت میں سرحد پار کر کے پاکستان کے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ، یہ حملے افغانستان کہ ایسے علاقوں سے ہوئے ہیں جہاں نیٹو اور افغان افواج بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ ان افواج کی موجودگی میں پاکستان کی سرزمین پر یہ حملے سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پاکستان نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے سے ایک بات طے ہو گئی کہ امریکہ تنہا پاکستان سے شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کے لیے دباوٴ نہیں ڈال سکتا۔ افغانستان میں بھی نیٹو اور امریکی افواج کو شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا جو پاکستانی افواج پر حملے کر رہے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s